| شعاع نور | |||
| ستارہء سحری ہوگیا فلک پہ علم ہے آج عالمِ ظلمت پہ نور کا عالم نسیم صبح کے جھونکے وہ روح پرور ہیں ہو بار گل کو جو آئے ہوائے خلد ارم بجائے اشک، گہر، چشمِ انتظار میں ہیں بدل گیا ہے مسرت سے گریہء شبنم | |||
وہ روشنی نظر آتی ہے کوہِ فاراں پر فلک نے بھی سرتسلیم کردیا ہے خم | |||
وہ آفتابِ رسالت سے ہوا ہے جلوہ فروز شعاعِ نور سے وہ جگمگا اٹھا عالم | |||
زمیں اسکا تجھے احترام لازم ہے یہ جانتی ہے کہ تجھپر ہیں آج کس کے قدم | |||
ہے جنکے فیض سے عالم میں جلوہء رحمت یہی وہ مہر عرب ہیں، یہی وہ ماہِ عجم | |||
یہی تو ہیں سبب آفرینشِ دنیا یہی ہیں باعثِ تخلیقِ عرش و لوح وقلم | |||
محمد عربی بادشاہ ہر دو سرا قسیم چشمہء کوثر، شفیع جملہ امم | |||
بلند و پست کا کیا امتیاز ان آنکھونمیں ہر اک پہ ہوتی تھی یکساں نگاہِ لطف و کرم | |||
مٹی وہ ظلمتِ کفر، آج نورِ وحدت سے گرے وہ سجدے میں جتنے تھے بتکدے میں صنم | |||
قبیلے برسرپیکار تھے جو مدت سے انھیں بھی شِیروشکر دم میں کردیا باہم | |||
مٹیں وہ رسمیں جو ننگِ وجود انساں تھیں زمین بنگئی صد رشکِ گلستانِ ارم | |||
یہ درس انکو ملا تھا رسولِ اُمّی سے خدا کی راہ میں گردن جھکی رہے ہردم | |||
جو راہِ حق میں کمر بستہ ہوکے اٹھتے تھے بٹھا نہ سکتی تھی پھر انکو طاقتِ عالم | |||
زمانے بھر کے نہ وہ ابتلا سے ڈرتے تھے خدا کے بعد رسولِ خدا سے ڈرتے تھے | |||
|
|
کلام و نقوش مصوّر: حمد و ثناء ۔۔ خوش آمدید
Sunday, April 5, 2009
شعاعِ نور
Thursday, March 26, 2009
نورِ جمال

جہانِ کفر کی تاریکیوں سے تھا معمور |
محال چشم خیال کو تھا تصور نور |
نہیں کہ شام و سحر دہر میں نہ تھے قائم |
نہیں کہ شمس و قمر کا نہ تھا طلوع و ظہور |
نہیں کہ چرخ پہ انجم نظر نہ آتے تھے |
نہیں کہ نور کی طالب نہ تھی شبِ دیجور |
ہو جو صبح کو مشرق سے آفتاب طلوع |
ہوا ہو گوشہء مغرب میں شام کو مستور |
یونہی تھا دست و گریباں سحر سے ماہ بھی پھر |
ہوائے جہل سے گل ہوچکی تھی شمع شعور |
اسیطرح سے ستارے بھی کچھ نظر آئے |
مگر خدا نے عطا کی تھی انکو طبع غیور |
نگاہِ یاس سے تکتے تھے وہ زمیں کیطرف |
یہ جانتے تھے کہ ہے روشنی سے یہ معذور |
ردائے صبح میں وہ بھی ہوئے نہاں آخر |
مگر یہ کفر کی ظلمت نکرسکے کافور |
وہ سرزمین عرب جسپہ جہل چھایا تھا |
ہر ایک ذرّہ پہ جسکے جمی تھی گرد فتور |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
Saturday, March 21, 2009
عالمِ کربلا
یہ لایا خون بیکس رنگ کیسا دیکھتے جائو |
سرائے ہستیء فانی کا نقشہ دیکھتے جائو |

| کسی دن عالمِ ادراک کی میں سیر کرتا تھا | |||
| مرے پیشِ نظر نقشہ زمینِ کربلا کا تھا | |||
| کلیجہ منہ کو آتا تھا وہ نظارہ تھا حسرت ناک | |||
| رواں تھی جوئے خوں آنکھوں سے ، دل تھا فرطِ غم سے چاک | |||
| پڑا تھا خاک و خوں میں مہ جبیں وہ، کیا قیامت تھی | |||
| رسول اللہ کو بے انتہا جس سے محبت تھی | |||
| حسین ابنِ علی وہ حامیء دین پیمبر تھا | |||
| جگر تھا فاطمہ کا، دل علی کا جانِ سرور | |||
| وہ نور راہِ حق، وہ پرتو شمع ہدایت تھا | |||
| کہ گل باغِ نبی، ریحانِ بستانِ رسالت تھا | |||
| بہارِ گلشن اسلام اسکے دم سے تازہ تھی | |||
| کہ ہستی اُسکی روئے ملت بیضا پہ غازہ تھِی | |||
| بہارِ جاوداں چہرے پہ اسکے صدقے ہوتی تھی | |||
| نسیم صبح کے جھونکوں سے یہ کہہ کہہ کر روتی تھی | |||
| خبر ہے تجھکو یہ پروردہء آغوشِ احمد ہے | |||
| زمینِ کربلا یہ افتخارِ دوشِ احمد ہے | |||
| فلک کو تھا شرف جس سے، یہ وہ نجمِ سعادت ہے | |||
| یہ وہ آئینہ ہے جس سے نہاں اک مہر وحدت ہے | |||
| نہالِ گلشنِ اسلام کا تازہ ثمر ہے یہ | |||
| فرشتوں کو بھی تھی جس سے عقیدت وہ بشریہ ہے | |||
| علمبردارِ وحدت، حاملِ دین نبی ہے یہ | |||
| ذرا کر احترام اسکا کہ فرزندِ علی ہے یہ | |||
| قضا کا منتظر تھا اف! یہ کیفِ بادہءمستی | |||
| بہت ہی تنگ تھا نظرونمیں اسکی جادہءہستی | |||
| یہ ہے تاریخ میں پہلا علمبردارِ حرّیت | |||
| یہی مظلوم و بیکس ہے، یہی سالارِ حریت | |||
| نہ چھوڑا ہاتھ سے اسنے کبھی میدانِ استقلال | |||
| دکھادی چھائوں میں تیغوں کی اس نے شان استدلال | |||
| نظر انجام پر تھی صدقے اس شانِ فراست کے | |||
| کہ پوشیدہ تھے مرگِ بیکسی میں راز ملّت کے | |||
| نشاط کامرانی آج اسکی بے بسی میں ہے | |||
| حیاتِ جاودانی اسکی مرگ بیکسی میں ہے | |||
| جہان حریت کے آفتاب، اے نورِ یزدانی | |||
| تری کرنوں سے ہر ذرہ کو ہے نازِ درخشانی | |||
| نہ چھوڑی ہاتھ سے حبل المتینِ شرع کیا کہنا | |||
| مبارک تجکو ہو جویائے راہِ مصطفیٰ رہنا | |||
| گیا وہ تشنہ لب دنیا سے اے نہروفرات آخر | |||
| شہیدِکربلا کی کرسکی کوئی نہ تو خاطر | |||
| بجائے آب تھا بہر وضو خونِ رُخِ انور | |||
| صلواۃ عشق کی آخر ادا اس نے تہ خنجر | |||
| کسی کو اسطرح ذکرِ خدا کرتے نہیں دیکھا | |||
| کبھی یوں پاس تسلیم و رضا کرتے نہیں دیکھا | |||
| خزاں اسلام کے گلشن پہ اکدن آنیوالی تھی | |||
| ہری کھیتی کبھی اس باغ کی مرجھانے والی تھی | |||
| مگر خون حسین ابن علی نے آبرو رکھ لی | |||
| زمیں پر آج شرم آیہء “لا تقنطوا” رکھ لی | |||
| کچھ ایسے رحمتِ باری کے بادل جوش میں برسے | |||
| بہارِ اسلام کے گلشن میں آئی پھر نئے سر سے | |||
| یہ لایا خون بیکس رنگ کیسا دیکھتے جائو | |||
| سرائے ہستیء فانی کا نقشہ دیکھتے جائو | |||
| ٹھہر اے عبرت دنیا کہ میں دل کھولکررولوں | |||
| ذرا اپنی سیہ کاری پر اپنے حال پررو لوں | |||
| یکا یک غیب سے آئی ندا کیوں محوِ حیرت ہے | |||
| یہی اہلِ بصیرت کیلیے راہِ صداقت ہے | |||
| ہمارے چاہنے والوں کا یہ انجام ہوتا ہے | |||
| ہماری راہ میں مٹنا ہی بس انکا کام ہوتا ہے | |||
| تڑپنا خاک و خوں میں اور ہستی کو مٹادینا | |||
| اشارہ ہے کہ راہِ حق میں یوں سر بھی کٹادینا | |||
| ملا تھا ایک انکو درس دربارِ رسالت سے | |||
| نہ تم منہ پھیرنا اپنا کبھی راہِ ہدایت سے | |||
| خدا کا شکر کرنا اور محوِ التجا رہنا | |||
| دم آخر بھی یوں پابند تسلیم رضا رہنا | |||
| گوارہ کرلیا سب غیرتِ اسلام کی خاطر | |||
| وہ لوٹے خاک و خوں میں حرمتِ اسلام کی خاطر | |||
| زمینِ کربلا کی خاک سے آواز آتی ہے | |||
| تجھے اے مسلمِ خوابیدہ یہ مژدہ سناتی ہے کہ تو بھی سرفروشانِ وفا میں نام پیدا کر مٹادے خود کو لیکن عظمتِ اسلام پیدا کر | |||
| جستجو میڈیا ریفرنس بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ | |||
| |
Thursday, March 19, 2009
چشمہء فیض
تشنہ کامانِ ازل ہوتے ہیں آکر سیراب |
چشمہء فیض ہے،دربارِ رسول عربی |

| کشتہء لذت گفتارِ رسول عربی |
| روز کرلیتے ہیں دیدارِ رسول عربی |
|
|
| دونوں عالم کی حقیقت کوئی کچھ بھی سمجھے |
| سمجھے ہم پرتو رخسارِ رسول عربی |
|
|
| قبر میں بھی یہی کہتے ہوئے ہم اٹھینگے |
| ہے ہمیں حسرتِ دیدار، رسولِ عربی |
|
|
| تشنہ کامانِ ازل ہوتے ہیں آکر سیراب |
| چشمہء فیض ہے،دربارِ رسول عربی |
|
|
| گردش چرخ نہ کیوں صدقے ہو ان قدموں پر |
| فرض ہے حرمتِ رفتار رسول عربی |
|
|
| آشنا جو مےء توحید کی لذت سے نہیں |
| وہ نہیں محرمِ اسرارِ رسول عربی |
|
|
| یہ مساوات کہ ادنیٰ بھی یہاں اعلیٰ ہے |
| واہ کیا خوب ہے، دربارِ رسولِ عربی |
|
|
| اے اسیرانِ قفس، تمکو رہائی کی نوید |
| ہوچکا میں تو گرفتارِ رسول عربی |
|
|
| چاک دل اپنا دکھائو نہ ہمیں اے پھولو!۔۔ |
| کہتے ہیں ہمکو، دل افگارِ رسول عربی |
|
|
| تو نہ کرنا اسے شرمندہء درماں یارب |
| بہتر اچھوں سے بیمارِ رسول عربی |
|
|
| دلِ عالم کی حکومت کے ہیں منکر وہ بھی |
| دیکھ لیں طالعِ بیدار رسول عربی |
|
|
| ہے ہر اک مہر رسالت کے خریداروں میں |
| اب بھی ہے گرمئی بازار رسول عربی |
|
|
| جائیں گلشن کیطرف ہم تو ہو گل چاک جگر |
| کچھ تو ہو پاس، دل افگارِ رسول عربی |
|
|
| آنکھ وہ آنکھ ہے، اے منظرِ نیرنگِ جمال |
| جسمیں ہو حسرتِ دیدارِ رسول عربی |
|
|
| اس سے خورشیدِ رسالت کی عیاں ہیں کرنیں |
| دل ہے یا مطلع انوار رسول عربی |
|
|
| لبِ اعجاز سے فرمائیں مصور کو کبھی |
| مرحبا شاعرِ دربارِ رسول عربی |
Friday, March 13, 2009
غوث الاعظم دستگیر
